روایات اور اقدار کی بھینٹ

سماج میں اپنی روایات اور پرانے کلچر  کے منفی  اثرات اپنی آنکھوں سے ہر روز دیکھنا  ایک حساس انسان کے لیے کسی  بڑی اذیت سے کم نہیں  ۔۔ خاص طور پر عورت کو متاثر ہوتے دیکھنا ۔۔۔۔
ماں بہن بھابی بیٹی بھائی بیٹا میاں ان دونوں رشتوں میں حیاتیاتی   فرق کے علاؤہ ہمارے سماجی تربیت کے مدنظر کوئی فرق نہیں دونوں چاہتے ہیں کہ ہماری بالادستی قائم رہے مرد تو اپنی بالادستی بنا کسی چالاکی کے ظاہر کرتا ہے ۔۔مگر عورت کو بہت جتن کرنے پڑتے ہیں ۔۔وہ اپنی بالادستی کو برقرار دوسرے طریقے سے کرتی ہے ۔۔۔جو  دیہات کی عورتیں اکثر اوقات  کرتی ہیں ۔۔ جیسا کہ  اپنے شوہر کو کیسے قابو میں کرنا ہے اپنے بھائی کو اپنے بیٹے کو انھوں پر اپنی عجیب وغریب خواہشات کیسے نصحیت وصیت ریت رواج کو آڑ بنا کر مسلط کرنی ہے اور یہ کام بڑے زبردست طریقے سے سرانجام دیتی ہیں  ان بیچاریوں نے ہمیشہ ذہنی غلامی  میں زندگی بسر کی ہے تو یہ مظلوم   فرمانبردار ی ۔۔میری مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں کرتا میرا بیٹا کواپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتی ہیں میں اپنے خاندان میں اس قسم کی صورتحال کو دیکھ ششدر ہوجاتا ہوں اب میرے پاس حل تو کوئی نہیں  ہاں بس یہ کہ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے بہت ضروری ہے اسی سے عورت کو عورت ہونے کی اہمیت عورت کو عورت ہونے کا احساس  ہوگا  ہاں پدرشاھ سماج میں چند قندھ ذہن غرور کے اور روایت اقدار  کے نشے میں پڑے  انکاری ہونگے  مگر عمران خان کی بات کہ سب سے پہلے آپ نے گھبرانا نہیں ہے ۔۔بس ڈٹ کر سامنا کرنا ہے ۔۔اس کے بعد دونوں جنس خوش وخرم بنا نفرت وتفریق کے  صرف محبت ہی محبت کے وسیلے اپنی پرسکون سادی سی زندگی گذاریں گے نہ کوئی بالادستی کی لالچ نہ کوئی ڈر بس محبت ہی محبت

محسن علی

عوام۔۔۔!!

کون ہو تم ۔۔۔؟؟؟
اقتدارے اعلی کے گیٹ پر کھڑے اربابِ اختیار نے ۔۔۔تنزیہ انداز سے پوچھا ۔۔۔
بھکاری ہو ۔۔؟؟
چور ہو..؟؟
بھوکے ہو ۔۔؟؟
کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی ..؟؟
پھٹے کپڑے
بھوکے ننگے
بلکل جاہل لگ رہے ہو
ہو کون تم
بلکل فلمی ایکشن کی طرح سلوموشن کے ساتھ بھوکے ننگے جاہل چور گندے نے سر کو اوپر کیا چھرے کی حالت نہ دیکھنے کے قابل گندی سی داڑھی اور سرخ آنکھیں ۔۔۔معصومیت اور غصہ دونوں ایک ساتھ ۔۔۔۔اس نے دیکھا اور للکارتے ہوئے کہا ۔۔۔
میں عوام ہوں۔۔۔عوام۔۔۔!!!! محسن علی

منٹو کے نام

ضمیر بدبودار پرانے کپڑے پہنے بازار سے گھر کی طرف جا رہا تھا تو اس کی ملاقات اس کے پرانے دوست ولید سے ہوئی اسلام علیکم میرے دوست کہاں گم ہو۔۔۔۔
ضمیر ۔۔۔میں آپ کے سامنے ۔۔
عجیب بات ہے تمہارے آس پاس ہزاروں برائیاں اور میں تمہیں کیوں نظر نہیں آتے ۔۔۔؟؟
ارے یار خدا کے لیے اب منٹو بننا بند کرو ۔۔۔
کیا مطلب سماجی برائیوں کی عکاسی کا ٹھیکا صرف منٹو نے اٹھایا ہے تم اور میں بس یہاں جھک مارنے آئے ہیں ۔۔۔
میں نے یہ کب کہا
ولید ۔۔۔۔؟؟
تو تمہارا مطلب تو یہی ہے ضمیر ۔۔۔
چلو کہیں بیٹھتے ہیں ۔۔۔چائے پیتے ہیں ۔۔ولید
میرے پاس پیسے نہیں ہیں
کہ میں تمہیں چائے پلا سکوں ضمیر نے کہا
۔۔ارے خدا کے بندے میں دونگا بل۔۔ تم چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔۔
ولید ؟؟ (چلتے ہوئے )
جی
منٹو کہتا ہے کہ میں نے ایسی فضا میں پرورش پائی ہے جہاں آزادی گفتار اور آزاد خیالی بہت بدتمیزی تصور کی جاتی ہے۔جہاں سچ کہنے والا بے ادب سمجھا جاتا ہے
جہاں اپنی خواہشات دبانا بڑا ثواب دارین سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔

ضمیر کی بات ختم ہونے تک ہوٹل پر جا پہنچے ۔۔۔بیس منٹ تک دونوں خاموش رہے۔۔۔جب تک چائے آ گئی ۔۔۔چائے نے خاموشی کا سلسلہ توڑا۔۔۔
چلو چائے پیو ۔۔؟؟
جی ۔۔۔
چائے کی سپکی بھرنے کے دوران ضمیر نے کہا کہ ۔۔میرا ایک کام کرو گے۔۔۔
کیا ؟؟ ولید نے پوچھا
مجھے شراب لادو ۔۔۔
میں شراب پینا پسند کرونگا ۔۔۔۔
شراب حرام ہے خدا کے بندے ۔۔
شراب حرام ہے تجھے بہکا دے گئی ۔۔۔
ہمہمہم۔۔۔۔۔چائے پیتے ہوئے ۔۔
شراب مجھے کیا بہکائے گی ۔۔۔شراب تو بس مجھے خاموش رکھے گی۔۔۔
کہ میں چپ رہوں گونگا رہوں ۔۔۔جس طرح میں اس ڈھکے ہوئے سماج کو ننگا دیکھتا ہوں شراب سماج پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔۔۔۔۔
شراب کی کڑاوہٹ سے ذیادہ کڑوی بہکی ننگی یہاں کی روایات یہاں کے اقتدار یہاں کا افسر شاہی نظام ہے جو ۔۔۔غریب کی بھوک تک نہیں مٹا سکتا ۔۔۔ارے بھائی کیا ہوگیا ہے تجھے ۔۔۔
۔۔۔۔تھوڑا ریلیکس کر ۔۔۔۔تو واقع منٹو کا چیلا ہے ۔۔۔۔منٹو نے جس طرح اُس وقت کے حالات کو اپنے افسانوں میں سمیٹا بلکل اسی طرح ہی تو سمیٹ رہا ہے ۔۔۔
ضمیر نے اپنی چائے کی آخری سپکی بھرتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔
حالات وہی ہیں ۔۔۔بس وقت نے تیزی سے اپنی رفتار بدلی ہے ۔۔۔اور منٹو میرا گرو نہیں اور نہ ہی میں اس کا چیلا ۔۔۔یہاں ہر وہ شخص منٹو ہے جو اپنے اندر ضمیر سے دوکھا اور ناانصافی نہیں کرتا ۔۔منٹو نے کہا تھا کہ۔۔میں وہی لکھتا ہوں جو دیکھتا ہوں ۔۔۔۔
تو میں بھی جو دیکھتا ہوں وہی اسی پر ہی سوچتا ہوں بولتا ہوں
سماج اور برائی کی آپس میں گہری دوست بن چکی ہے جس کو توڑنا بہت مشکل ہے
مگر
جہاں ضمیر زندہ ہوتے ہیں وہاں ممکن ہے کہ یہ دوستی ٹوٹ جائے۔۔۔
ایک دن آئے گا جب سماج کی دوستی صرف اچھائی سے ہوگی صرف اچھائی سے
اوکے پھر ملاقات ہوگی ۔
ضمیر چلا گیا
ولید اکیلا بیٹھا
اپنے ضمیر میں جان ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
محسن علی

کہاں ہو تم

سورٹھ کہاں ہو تم ۔۔۔
آجاؤ
میرے پاس۔۔۔
تم ہی ہو ۔۔۔
جو
مجھے امن کے گیت سنایا کرتی تھی ۔۔۔
میرے زخموں پر مرہم رکھا کرتی تھی۔۔۔
میری آس تھی تم ۔۔۔
میرے من گھڑت حقیقت سے آشنا خوابوں کو ۔۔۔
حقیقت کے خوبصورت لباس سے ۔۔
تم ڈھانپتی تھی ۔۔۔
آجاؤ ۔۔
خدارا
مجھے تمہاری ۔۔۔ضرورت ہے
سورٹھ آجاؤ تم ۔۔۔

محسن علی ۔۔۔۔

Romantic poetry….

Do you know about romantic poet they played key role on the exploitation of the women women is a human being not a moon rose flower or soft thing …I do not thing so they wrote on men …..man has same feeling as woman ……be real do not miss guide to people work on nature …and it’s complexity …

Mohsin Ali

ایک طوائف کا خدا کو لکھا گیا خط…!!!؟

میں اپنی ننگی راتیں
تجھے دکھانا چاہتی ہوں
میرے دن اور رات
مزدور کے کندھے پر اٹھائی ہوئی وزن دار بوری کی طرح ہیں
میں اپنی تھکاوٹ کو اپنے سے چھان نہیں سکی
آج تیرے آگے میں اپنا گیلا جوڑا نچوڑ کر رکھنا چاہتی ہوں
جو کبھی بھی سوکھا نہیں
جسموں کا کچلنا جوانی چھین لیتا ہے
تجھہ سے میری پناہ کی رسی کیوں چھوٹ گئی ہے
میری صورت ثواب جیسی ہوکر بھی کتنے گناھوں میں غرق ہو گئی ہے
کتنے ہی دفع صندوق پر رکھے ہوئے مثلے پر نظر گھمائی نماز کی نیت بھی کی ہے میں نے
مگر عمر رسیدھ طوائف کے پیسو کا بھوک
مجھے روز ننگا کرتی ہے
سلحہ (سانس کی تکلیف) کے مریضوں نے ہانکتے ہوئے میرے ہرک جیسے جسم کو جھپٹا ہے
میں آٹھوں پہر اپنے آپ کو دھو کر پاک نہیں ہو سکتی
بڑوت کے پیسوں سے لی گئی شراب کی بوتل مجھے اپنے پاس جکڑے رکھتی ہے
سگریٹ میری نیندوں کو جلاتا ہے
نہیں معلوم میرے پیٹ میں کس کا بچہ سانس لینے لگا ہے
مختلف مردوں کی ایک ساتھ محنت سے
اس بچے کی شکل پتہ نہیں کس پر گئی ہوگی
میں تیری تخلیق کی ہوئی دنیا میں بدنام ہو چکی ہوں
اب تو عمر رسیدھ طوائف کے پیسے کی بھوک اتر چکے ہوگی
جو مجھہ سے ایک مور سے بھی ذیادہ کما رہی ہے
میری زندگی کے وہ سارے دن
کیا تو نے اپنے ہاتھوں سے لکھے ہیں
میں آج بھی تیرے رحم و کرم سے مایوس نہیں ہوں
میں اپنی زندگی کے دن
دوبار نئے سرے سے لکھنا چاہتی ہوں
میں طوائف بن کر کوٹھے پر ایک رات بھی نہیں گذارنا چاہتی ہوں
میں اپنا لکھا ہوا خط دعا کے لفافے میں ڈال کر
ساتویں آسمان کی طرف بھیج رہی ہوں
امید ہے کہ اس طوائف کے لکھے گئے خط کا جواب ضرور ملے گا ۔۔۔!!؟
نوجوان شاعر ایاز امر شیخ کی لکھی گئی آزاد نظم

مترجم
محسن علی

اپنے بنائے ہوئے دستور پر
صحیح ثابت کرنا
غلط ثابت کرنا
آواز اٹھانا
پھر نیا دستور بنانا
عجیب ہوں میں
کیونکہ میں انسان ہوں

محسن علی کا فلسفہ

شخصیت پرستی ایک موذی مرض ہے جو انسان کو ہمیشہ دوسروں کی سوچ کے ماتحت رکھتی ہے۔۔ لوگ پھر خود نہیں سوچتے۔۔بنابنایا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔محنت کرنا نہیں چاہتے۔۔۔محروم رہتے ہیں تخلیقی سوچ سے۔۔۔ ہم پاکستانی اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔۔۔ 🌹🙏🏻