ایک طوائف کا خدا کو لکھا گیا خط…!!!؟

میں اپنی ننگی راتیں
تجھے دکھانا چاہتی ہوں
میرے دن اور رات
مزدور کے کندھے پر اٹھائی ہوئی وزن دار بوری کی طرح ہیں
میں اپنی تھکاوٹ کو اپنے سے چھان نہیں سکی
آج تیرے آگے میں اپنا گیلا جوڑا نچوڑ کر رکھنا چاہتی ہوں
جو کبھی بھی سوکھا نہیں
جسموں کا کچلنا جوانی چھین لیتا ہے
تجھہ سے میری پناہ کی رسی کیوں چھوٹ گئی ہے
میری صورت ثواب جیسی ہوکر بھی کتنے گناھوں میں غرق ہو گئی ہے
کتنے ہی دفع صندوق پر رکھے ہوئے مثلے پر نظر گھمائی نماز کی نیت بھی کی ہے میں نے
مگر عمر رسیدھ طوائف کے پیسو کا بھوک
مجھے روز ننگا کرتی ہے
سلحہ (سانس کی تکلیف) کے مریضوں نے ہانکتے ہوئے میرے ہرک جیسے جسم کو جھپٹا ہے
میں آٹھوں پہر اپنے آپ کو دھو کر پاک نہیں ہو سکتی
بڑوت کے پیسوں سے لی گئی شراب کی بوتل مجھے اپنے پاس جکڑے رکھتی ہے
سگریٹ میری نیندوں کو جلاتا ہے
نہیں معلوم میرے پیٹ میں کس کا بچہ سانس لینے لگا ہے
مختلف مردوں کی ایک ساتھ محنت سے
اس بچے کی شکل پتہ نہیں کس پر گئی ہوگی
میں تیری تخلیق کی ہوئی دنیا میں بدنام ہو چکی ہوں
اب تو عمر رسیدھ طوائف کے پیسے کی بھوک اتر چکے ہوگی
جو مجھہ سے ایک مور سے بھی ذیادہ کما رہی ہے
میری زندگی کے وہ سارے دن
کیا تو نے اپنے ہاتھوں سے لکھے ہیں
میں آج بھی تیرے رحم و کرم سے مایوس نہیں ہوں
میں اپنی زندگی کے دن
دوبار نئے سرے سے لکھنا چاہتی ہوں
میں طوائف بن کر کوٹھے پر ایک رات بھی نہیں گذارنا چاہتی ہوں
میں اپنا لکھا ہوا خط دعا کے لفافے میں ڈال کر
ساتویں آسمان کی طرف بھیج رہی ہوں
امید ہے کہ اس طوائف کے لکھے گئے خط کا جواب ضرور ملے گا ۔۔۔!!؟
نوجوان شاعر ایاز امر شیخ کی لکھی گئی آزاد نظم

مترجم
محسن علی

Advertisements

اپنے بنائے ہوئے دستور پر
صحیح ثابت کرنا
غلط ثابت کرنا
آواز اٹھانا
پھر نیا دستور بنانا
عجیب ہوں میں
کیونکہ میں انسان ہوں

محسن علی کا فلسفہ

شخصیت پرستی ایک موذی مرض ہے جو انسان کو ہمیشہ دوسروں کی سوچ کے ماتحت رکھتی ہے۔۔ لوگ پھر خود نہیں سوچتے۔۔بنابنایا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔محنت کرنا نہیں چاہتے۔۔۔محروم رہتے ہیں تخلیقی سوچ سے۔۔۔ ہم پاکستانی اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔۔۔ 🌹🙏🏻